نئی دہلی یکم اگست (ایس او نیوز/ایجنسیز) لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد ایک بار میں تین طلاق دینے سے متعلق بل کو صدر جمہوریہ نے بھی اپنی منظوری دے دی ہے۔ جس کے ساتھ ہی اب اس بل نے قانون کی شکل لے لی ہے اور 19 ستمبر 2018 سے یہ نافذ العمل ہوگا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تین طلاق بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کرانے کے بعد مودی حکومت نے اسے صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کے لیے بھیج دیا تھا، اور صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے تین طلاق بل کو منظوری دے دی۔ واضح رہے کہ طلاق ثلاثہ بل پارلیمنٹ کے دیوانوں ایوانوں سے پہلے ہی پاس ہو چکا ہے۔ مودی حکومت نے اس بل کو 25 جولائی کو لوک سبھا میں اور 30 جولائی کو راجیہ سبھا میں پاس کروایا تھا۔
یاد رہے کہ راجیہ سبھا میں بل کی حمایت میں 99 جب کہ مخالفت میں 84 ووٹ پڑے تھے۔ اس سے قبل اپوزیشن کے ذریعہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن یہ مطالبہ بھی ایوان میں گر گیا تھا۔ ووٹنگ کے دوران بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کے حق میں 84 جب کہ مخالفت میں 100 ووٹ پڑے تھے۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے منظوری ملنے کے ساتھ ہی اس قانون نے اب تین طلاق کو لے کر 21 فروری کو جاری کیے گئے موجودہ آرڈیننس کی جگہ لے لی ہے۔ بل کے قانون بننے کے بعد یعنی 19 ستمبر 2018 کے بعد جتنے بھی معاملے میں تین طلاق سے متعلق آئے ہیں، ان سبھی کا نمٹارا اسی قانون کے تحت کیا جائے گا۔